Saturday, 7 March 2015

میدان جنگ میں توبہ

”نصر بن مزاحم“ کتاب واقعہ صفین میں نقل کرتے ھیں: ھاشم مرقال کھتے ھیں: جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کے لئے چند قاریان قرآن شریک تھے، معاویہ کی طرف سے طائفہ ”غسّان“ کا ایک جوان میدان میں آیا، اس نے رجز پڑھا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں جسارت کرتے ھوئے مقابلہ کے لئے للکارا، مجھے بھت زیادہ غصہ آیا کہ معاویہ کے غلط پروپیگنڈے نے اس طرح لوگوں کو گمراہ کررکھا ھے، واقعاً میرا دل کباب ھوگیا، میں نے میدان کا رخ کیا، اور اس غافل جوان سے کھا: اے جوان! جو کچھ بھی تمھاری زبان سے نکلتا ھے، خدا کی بارگاہ میں اس کا حساب و کتاب ھوگا، اگر خداوندعالم نے تجھ سے پوچھ لیا :
 علی بن ابی طالب سے کیوں جنگ کی ؟ تو کیا جواب دے گا؟
چنانچہ اس جوان نے کھا:
 میں خدا کی بارگاہ میں حجت شرعی رکھتا ھو کیونکہ میری تم سے جنگ علی بن ابی طالب کے بے نمازی ھونے کی وجہ سے ھے!
ھاشم مرقال کھتے ھیں: میں نے اس کے سامنے حقیقت بیان کی،معاویہ کی مکاری اور چال بازیوں کو واضح کیا۔ جیسے ھی اس نے یہ سب کچھ سنا، اس نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کی، اور توبہ کی، اور حق کا دفاع کرنے کے لئے معاویہ کے لشکر سے جنگ کے لئے نکل گیا۔

No comments:

Post a Comment