Saturday, 7 March 2015

ایک نمونہ خاتون

آسیہ ،فرعون کی زوجہ تھی، وہ فرعون جس میں غرور و تکبر کا نشہ بھرا تھا، جس کا نفس شریر تھا اور جس کے عقائد اور اعمال باطل وفاسد تھے۔
قرآن مجید نے فرعون کو متکبر، ظالم ، ستم گر اور خون بھانے والے کے عنوان سے یاد کیا ھے اور اس کو ”طاغوت“ کا نام دیا ھے۔
آسیہ ، فرعون کے ساتھ زندگی بسر کرتی تھی، اور فرعونی حکومت کی ملکہ تھی، تمام چیزیں اس کے اختیار میں تھیں۔
وہ بھی اپنے شوھر کی طرح فرمانروائی کرتی تھی، اور اپنی مرضی کے مطابق ملکی خزانہ سے فائدہ اٹھاتی تھی۔
ایسے شوھر کے ساتھ زندگی، ایسی حکومت کے ساتھ ایسے دربار کے اندر، اس قدر مال و دولت، اطاعت گزار غلام او رکنیزوں کے ساتھ میں اس کی ایک بھترین زندگی تھی۔
ایک جوان اور قدرتمند خاتون نے اس ماحول میں پیغمبر الٰھی جناب موسی بن عمران کے ذریعہ الٰھی پیغام سنا، اس نے اپنے شوھر کے طور طریقے اور اعمال کے باطل ھونے کو سمجھ لیا، چنانچہ نور حقیقت اس کے دل میں چمک اٹھا۔
حالانکہ اس کو معلوم تھا کہ ایمان لانے کی وجہ سے اس کی تمام خوشیاں اور مقام و منصب چھن سکتا ھے یھاں تک کہ جان بھی جاسکتی ھے، لیکن اس نے حق کو قبول کرلیا اور وہ خداوندمھربان پر ایمان لے آئی،اور اپنے گزشتہ اعمال سے توبہ کرلی اور نیک اعمال کے ذریعہ اپنی آخرت کو آباد کرنے کی فکر میں لگ گئی۔
اس کا توبہ کرنا کوئی آسان کام نھیں تھا، اس کی وجہ سے اسے اپنا تمام مال و دولت اور منصب ترک کرنا پڑا، اور فرعون و فرعونیوں کی ملامت ضرب و شتم کو برداشت کرنا پڑا،لیکن پھر بھی وہ توبہ ، ایمان، عمل صالح اور ہدایت کی طرف قدم آگے بڑھاتی رھی۔
جناب آسیہ کی توبہ ،فرعون اور اس کے درباریوں کو ناگوار گزری، کیونکہ پورے شھر میں اس بات کی شھرت ھوگئی کہ فرعون کی بیوی اور ملکہ نے فرعونی طور طریقہ کو ٹھکراتے ھوئے مذھب کلیم اللہ کو منتخب کرلیا ھے، سمجھا بجھاکر، ترغیب دلاکراور ڈرا دھمکاکر بھی آسیہ کے بڑھتے قدم کو نھیں روکا جاسکتا تھا، وہ اپنے دل کی آنکھوں سے حق کو دیکھ کر قبول کرچکی تھی، اس نے باطل کے کھوکھلے پن کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا، لہٰذا حق و حقیقت تک پہنچنے کے بعد اس کو ھاتھ سے نھیں کھوسکتی تھی اور کھوکھلے باطل کی طرف نھیں لوٹ سکتی تھی۔
جی ھاں، یہ کیسے ھوسکتا ھے کہ خدا کو فرعون سے، حق کو باطل سے، نور کو ظلمت سے، صحیح کو غلط سے، آخرت کو دنیا سے، بہشت کو دوزخ سے، اورسعادت کو بدبختی سے بدل لے۔
جناب آسیہ نے اپنے ایمان، توبہ و استغفار پر استقامت کی ، جبکہ فرعون دوبارہ باطل کی طرف لوٹا نے کے لئے کوشش کررھا تھا۔
فرعون نے جناب آسیہ سے مقابلہ کی ٹھان لی، غضبناک ھوا، اس کے غضب کی آگ بھڑک اٹھی، لیکن آسیہ کی ثابت قدمی کے مقابلہ میں ھار گیا، اس نے آسیہ کو شکنجہ دینے کا حکم دیا، اور اس عظیم خاتون کے ھاتھ پیر کو باندھ دیا، اور سخت سے سخت سزا دینے کے بعد پھانسی کا حکم دیدیا،اس نے اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ اس کے اوپر بڑے بڑے پتھر گرائے جائیں ،لیکن جناب آسیہ نے دنیا و آخرت کی سعادت و خوشبختی حاصل کرنے کے لئے صبر کیا، اور ان تمام سخت حالات میں خدا سے لَو لگائے رکھی۔
جناب آسیہ کی حقیقی توبہ، ایمان و جھاد، صبر و استقامت، یقین اور مستحکم عزم کی وجہ سے قرآن مجید نے ان کو قیامت تک مومن و مومنات کے لئے نمونہ کے طور پر پہنچوایا ھے،تاکہ ھر زمانہ کے گناھگار کے لئے عذر و بھانہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے اور کوئی یہ نہ کہہ دے کہ توبہ، ایمان اور عمل صالح کا کوئی راستہ باقی نھیں رھا تھا۔
(( وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً لِلَّذینَ آمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعُوْنَ اِذْقالَتْ رَبِّ ابْنِ لی عِنْدَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنیٖ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہِ وَنَجِّنی مِنَ الْقَوْمِ الظّالِمینَ))۔[2]
”اورخد ا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے درباریوںسے نجات دلادے اور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطا فرمادے “۔
توبہ، ایمان، صبر اور استقامت کی بنا پر اس عظیم الشان خاتون کا مرتبہ اس بلندی پر پہنچا ھوا تھا کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے ان کے بارے میں فرمایا:
”اِشْتاقَتِ الْجَنَّةُ اِلٰی اَرْبَعٍ مِنَ النِّساءِ :مَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرانَ،وَآسِیَةَ بِنْتِ مُزاحِمٍ زَوْجَةِ فِرْعَوْنَ،وَخَدیجَةَ بِنْتِ خُوَیْلَدٍزَوْجَةِ النَّبِیِّ فِی الدُّنْیا وَالآخِرَةِ،وَ فاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ:“۔[3]
”جنت چار عورتوں کی مشتاق ھے، مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون، خدیجہ بنت خویلد دنیا و آخرت میں ھمسر پیغمبر، اور فاطمہ بنت محمد ۔“
”شعوانہ “کی توبہ
مرحوم ملا احمد نراقی اپنی عظیم الشان اخلاقی کتاب ”معراج السعادة“ میں حقیقی توبہ کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب واقعہ بیان کرتے ھیں:
شعوانہ ایک جوان رقّاصہ عورت تھی، جس کی آواز نھایت سریلی تھی ، لیکن اس کو حلال و حرام پر کوئی توجہ نھیں تھی، شھر بصرہ کے مالداروں کے یھاں فسق و فجور کی کوئی ایسی محفل نہ تھی جس میں شعوانہ بلائی نہ جاتی ھو، وہ ان محفلوں میں ناچ گانا کیا کرتی تھی ، یھی نھیں بلکہ اس کے ساتھ کچھ لڑکیاں اور عورتیں بھی ھوتی تھیں۔
ایک روز اپنے سھیلیوںکے ساتھ ایسی ھی محفلوں میں جانے کے لئے ایک گلی سے گزر رھی تھی کہ اچانک دیکھا کہ ایک گھر سے نالہ و شیون کی آواز آرھی ھے، اس نے تعجب کے ساتھ سوال کیا: یہ کیسا شور ھے؟ اور اپنی ایک سھیلی کو حالات معلوم کرنے کے لئے بھیج دیا، لیکن بھت دیر انتظار کے بعد بھی وہ نہ پلٹی، اس نے دوسری سھیلی کو بھیجا، لیکن وہ بھی واپس نہ آئی، تیسری کو بھی روانہ کیا اور ہدایت کردی کہ جلد لوٹ کر آنا، چنانچہ جب وہ گئی اور تھوڑی دیر بعد لوٹ کر آئی تو اس نے بتایا کہ یہ سب نالہ و شیون بدکار اور گناھگارافراد کا ھے!
شعوانہ نے کھا:  میں خود جاکر دیکھتی ھوں کیا ھورھا ھے۔
جیسے ھی وہ وھاں پہنچی اور دیکھا کہ ایک واعظ لوگوں کو وعظ کررھے ھیں، اور اس آیہ شریفہ کی تلاوت کررھے ھیں:
(( إِذَا رَاٴَتْھم مِنْ مَکَانٍ بَعِیدٍ سَمِعُوا لَھا تَغَیُّظًا وَزَفِیرًا ۔ وَإِذَا اٴُلْقُوا مِنْھا مَکَانًا ضَیِّقًا مُقَرَّنِینَ دَعَوْا ہُنَالِکَ ثُبُورًا))۔[4]
”جب آتش (دوزخ) ان لوگوں کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے بھڑکتے ھوئے شعلوں کی آوازیں سنیں گے۔ اور جب انھیں زنجیروں میں جکڑ کر کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا تو وھاں موت کی دھائی دیں گے“۔
جیسے ھی شعوانہ نے اس آیت کو سنا اور اس کے معنی پر توجہ کی ، اس نے بھی ایک چیخ ماری اور کھا: اے واعظ! میں بھی ایک گناھگار ھوں، میرا نامہ اعمال سیاہ ھے، میں بھی شرمندہ اور پشیمان ھوں، اگر میںتوبہ کروں تو کیا میری توبہ بارگاہ الٰھی میں قبول ھوسکتی ھے؟
واعظ نے کھا: ھاں، تیرے گناہ بھی قابل بخشش ھیں، اگرچہ شعوانہ کے برابر ھی کیوں نہ ھوں!
اس نے کھا: وائے ھو مجھ پر،ارے میں ھی تو”شعوانہ “ھوں، افسوس کہ میں کس قدر گناھوں سے آلودہ ھوں کہ لوگوں نے مجھے گناھگار کی ضرب المثل بنادیا ھے!!
اے واعظ! میںتوبہ کرتی ھوں اور اس کے بعدکوئی گناہ نہ کروں گی، اور اپنے دامن کو گناھوں سے بچاؤں گی اورگناھگاروں کی محفل میں قدم نھیں رکھوں گی۔
واعظ نے کھا: خداوندعالم تیری نسبت بھی”ارحم الراحمین“ ھے۔
واقعاً شعوانہ نے توبہ کرلی، عبادت و بندگی میں مشغول ھوگئی،گناھوں سے پیدا ھوئے گوشت کو پگھلادیا، سوز جگر، اور دل کی تڑپ سے آہ وبکاکرتی تھی : ھائے ! یہ میری دنیا ھے، تو آخرت کا کیا عالم ھوگا، لیکن اس نے اپنے دل میں ایک آواز کا احساس کیا: خدا کی عبادت میں مشغول رہ، تب آخرت میں دیکھنا کیا ھوتا ھے۔
میدان جنگ میں توبہ
”نصر بن مزاحم“ کتاب واقعہ صفین میں نقل کرتے ھیں: ھاشم مرقال کھتے ھیں: جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کے لئے چند قاریان قرآن شریک تھے، معاویہ کی طرف سے طائفہ ”غسّان“ کا ایک جوان میدان میں آیا، اس نے رجز پڑھا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں جسارت کرتے ھوئے مقابلہ کے لئے للکارا، مجھے بھت زیادہ غصہ آیا کہ معاویہ کے غلط پروپیگنڈے نے اس طرح لوگوں کو گمراہ کررکھا ھے، واقعاً میرا دل کباب ھوگیا، میں نے میدان کا رخ کیا، اور اس غافل جوان سے کھا: اے جوان! جو کچھ بھی تمھاری زبان سے نکلتا ھے، خدا کی بارگاہ میں اس کا حساب و کتاب ھوگا، اگر خداوندعالم نے تجھ سے پوچھ لیا :
 علی بن ابی طالب سے کیوں جنگ کی ؟ تو کیا جواب دے گا؟
چنانچہ اس جوان نے کھا:
 میں خدا کی بارگاہ میں حجت شرعی رکھتا ھو کیونکہ میری تم سے جنگ علی بن ابی طالب کے بے نمازی ھونے کی وجہ سے ھے!
ھاشم مرقال کھتے ھیں: میں نے اس کے سامنے حقیقت بیان کی،معاویہ کی مکاری اور چال بازیوں کو واضح کیا۔ جیسے ھی اس نے یہ سب کچھ سنا، اس نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کی، اور توبہ کی، اور حق کا دفاع کرنے کے لئے معاویہ کے لشکر سے جنگ کے لئے نکل گیا۔

No comments:

Post a Comment