Saturday, 7 March 2015

موسیٰ علیہ السلام کے ایک امتی کی توبہ کا واقعہ

حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک آدمی تھا۔وہ اپنی توبہ کے اوپر جمع نہیں رہتا تھا ۔۔اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کے اوپر وحی نازل فرمائی کہ اس نوجوان کو کہہ دو اپنی توبہ کو نہیں توڑنا، اگر تو اپنے گناہ کی طرف لوٹا تو میں تجھے سزا دوں اور تیری توبہ بھی قبول نہیں کروں گا۔۔۔موسی علیہ السلام نے پیغام پہنچا دیا
اس نوجوان نے کچھ دن تو صبر کیا لیکن پھر گناہ کر بیٹھا۔
اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی "اسے کہہ دو میں اس سے ناراض ہوں"۔۔موسی علیہ السلام نے پیغام پہنچا دیا
وہ بندہ صحرا کی طرف نکل گیا اور کہنے لگا
" الہی ! آپ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف کیسا پیغام بھیجا ہے؟ کیا آپ کے مغفرت کے خزانے ختم ہو گئے؟میرے مولا! کون سا میرا گناہ تیری رحمت سے بڑا ہے جو معاف ہونے کے قابل نہیں۔۔۔آپ نے کہا! تیری مغفرت نہیں کروں گا ۔اللہ کیسے میری مغفرت نہیں کریں گے کہ اللہ تیری صفات میں سے ہیں آپ بڑے کریم ہیں۔۔اے اللہ! آپ اپنے بندے کو اپنی رحمت سے مایوس کریں گے تو وہ کون سے دروزے پر جائیں گے۔۔اے اللہ! اگر آپ انھیں دھکے دیں گے وہاں کہاں کا قصد کریں۔۔اللہ! اگر آپ کی رحمت ختم ہو گئی ہے تو اے اللہ مجھے عذاب دے دیجیے ۔اے اللہ اپنے باقی سارےبندوں کے گناہ بھی میرے سر ڈال دے۔۔اے اللہ میں سب کی طرف سے فدیہ بن جاوں گا۔مجھ کو عذاب دے دے باقی سب کو معاف کر دے۔"
اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کو وحی کی
"اس بندے کو کہہ دیجیے اگر تیرے گناہ آسمان اور زمین کے فاصلے کو بھر دیتے میں تیری اس دعا کے بعد تیرے سارے گناہ معاف کر دیتا تو نے میرے عفو اور میری رحمت کو سمجھ لیا۔"

No comments:

Post a Comment