Saturday, 7 March 2015

ایک بزرگ - حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ

تیسرا واقعہ امت مسلمہ کے ابتدائی دور کے ایک بزرگ کا ہے جن کا نام ہے حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ ۔ جو کہ بہت نامور محدث اور مشہور اولیائے کرام میں سے ہیں۔ یہ پہلے زبردست ڈاکو تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے کسی مکان کی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اتفاقاً اس وقت مالک مکان تلاوت قرآن مجید میں مشغول تھا ۔ اس نے یہ آیت پڑھی:
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ 
ترجمہ: جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ، کیا ان کے لئے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے اور جو حق اترا ہے ، اس کے لئے پسیج جائیں؟
جونہی یہ آیت ان کی سماعت سے ٹکرائی توخشیت الٰہی سے تھر تھر کانپنے لگے اور بے اختیار منہ سے نکلا: آگیا ۔ میرے رب ! اب اس کا وقت آ گیا۔  چنانچہ روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور ایک سنسان کھنڈر نما مکان میں جا بیٹھے ۔ اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پھر آپ نے سچی توبہ کی اور توبہ کی پختگی کی خاطر ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی بیت اللہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاروں گا۔ وہاں علم حدیث پڑھنا شروع کیا ، یہاں تک کہ اپنے وقت کے بلند پایہ محدث بنے ۔
گناہگاروں کی توبہ کے ایسے بے شمار واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ماضی قریب میں دیکھا جائے تو مشہور پاکستانی کرکٹرز جو کہ گلیمر کی دنیا میں ڈوبے ہوئے تھے ، ان کے رجوع الی اللہ کے واقعات بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ ایک اہم ترین واقعہ مشہور گلوکار جنید جمشید کا ہے جس نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود گانا بجانا چھوڑ کر اللہ سے تعلق جوڑ لیا ۔ آج اللہ نے اسے دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
یہ تمام واقعات ذکر کرنے کا سبب یہ ہے کہ آج ایک اور بھٹکی ہوئی لڑکی اپنے  کئے پر نادم و تائب ہو کر راہ ہدایت کی جانب لوٹ رہی ہے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یقیناً اس سے ماضی میں کچھ ایسے کام ہوئے ہیں جو صرف اسی کے لئے نہیں بلکہ ملک و ملت کے لئے بھی رسوائی و شرمندگی کا باعث بنے لیکن آج جبکہ وہ توبہ کر رہی ہے تو اس کی تضحیک چہ معنی دارد۔ میڈیا بھی عجیب ہے کہ جب وہ تاریک راہوں میں بھٹک رہی تھی تو بھی اس پر لعن طعن کی جا رہی تھی اور اب جبکہ وہ روشنیوں کی سمت چل پڑی ہے تو “نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی “ ایسے محاورے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ وہ ان دنوں مالک ارض و سماوات سے اپنا رشتہ استوار بلکہ مستحکم کرنے کی غرض سے اس کے در کی چوکھٹ پر جا بیٹھی ہے ۔ کیا خبر اس کی توبہ اسے کون سی ارفع منازل طے کرا دے ۔ کون جانے کہ وہ رابعہ بصری کے برابر جا کھڑی ہو! اللہ کی اللہ ہی جانے ۔ کہیں نوح و لوط علیہم السلام جیسے انبیاء کی بیویاں جہنم کا ایندھن بن رہی ہیں  تو کہیں فرعون جیسے دشمن دین کی بیوی آسیہ اسلام قبول کر کے جنت میں ختم المرسلین ﷺ کی زوجیت کا شرف حاصل کر رہی ہیں۔ کہیں نبی ﷺ کا سردار چچا ابو لہب جہنم کے پست ترین درجات میں گر رہا ہے تو کہیں بلال رضی اللہ عنہ جیسا غلام ابن غلام حضور ﷺ کی سواری کی لگام پکڑے جنت میں داخل ہو رہا ہے ۔  قرآن نے کلیہ بتا دیا ہے  کہ
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ 
اللہ کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو زیادہ ڈرنے والا ہے۔
مذاق اڑانے والوں کو اس حدیث مبارکہ کا بھی مطالعہ کر لینا چاہئے:
إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ
بندہ دوزخیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ، (اسی طرح دوسرا) بندہ جنتیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے ،
بلاشبہ اعمال کا دارو مدار خاتمہ پر ہے ۔
 ایسے میں دعا کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے؟ سو آئیے دعا کریں! اس کے لئے بھی اور اپنے لئے بھی۔کہ اللہ اسے بھی معاف فرمائے اور ہمیں بھی ۔ اللہ اسے بھی ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں بھی ۔ اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ، اپنی رضا پر فرمائے۔ آمین۔

دور نبوی ﷺ کی ایک عورت

دور نبوی ﷺ کی ایک عورت کا ہے جس سے زنا سرزد ہو گیا۔ صحیح مسلم میں حضرت سيدنا عمران بن حصين سے روايت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ايک عورت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوئی،اسے زنا کا حمل تھا ۔وہ عرض کرنے لگی: ”يارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ميں وہ کام (یعنی زنا)کر بيٹھی ہوں جس پر حد واجب ہوتی ہے ،آپ مجھ پر حد قائم فرما ديں ۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلا کر ارشاد فرمايا:”اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور جب وضع حمل ہو جائے تو اسے ميرے پاس لے آنا ۔” پھر ايساہی ہوا (یعنی وضع حمل کے بعد ولی اسے لے کر حاضر خدمت ہو گيا )تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم ديا کہ اسے اس کے کپڑوں کے ساتھ باندھ د ياجائے۔(تاکہ ستر نہ کھلے)۔ پھراسے رجم کر ديا گيا ۔
بعد ازاں سرکار دو عالم ﷺ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی تو حضرت سيدنا عمر فاروق عرض گزار ہوئے:”يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھ دی حالانکہ اس نے زنا کا ارتکاب کيا تھا ؟”اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمايا:”يقينا اس نے ايسی توبہ کی ہے کہ اگر اس کی يہ توبہ اہل مدينہ کے سترافراد پر تقسيم کر دی جائے تو انہيں بھی کافی ہو جائے (یعنی ان کی مغفرت ہو جائے)اور تو نے اس سے افضل کوئی توبہ دیکھی ہے کہ اس نے اپنی جان محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر قربان کر دی۔”

گناہ کی توبہ اور معافی

س… ایک بچہ مسلمان گھر میں پیدا ہوتا ہے اور اسی گھر میں پل کر جوان ہوتا ہے، اس کے دل میں دین کی محبت بھی ہوتی ہے، لیکن شیطان کے بہکانے پر گناہ بھی کرلیتا ہے حتیٰ کہ وہ گناہِ کبیرہ میں ملوث ہوجاتا ہے، لیکن گناہِ کبیرہ کرنے کے بعد اس کے دل کو سخت ٹھوکر لگتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوکر توبہ کرلیتا ہے اور سچی توبہ کرلیتا ہے۔ کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ اس کو شرعی سزا دنیا میں نہ دی جائے اور نہ اس کے اقبالِ جرم کے علاوہ گناہ کا کوئی ثبوت موجود ہے۔
ج… آدمی سچی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ گناہگار کی توبہ قبول فرماتے ہیں اور جس شخص سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور کسی بندے کا حق اس سے متعلق نہ ہو اور کسی کو اس گناہ کا پتہ بھی نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ کسی سے اس گناہ کا اظہار نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ و استغفار کرے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سزا کیوں دیتے ہیں؟
جبکہ وہ والدین سے زیادہ شفیق ہیں
س… جب بھی سزا و جزا کا خیال آتا ہے میں سوچتی ہوں کہ ہم تو اللہ کے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اتنا چاہتا ہے کہ والدین جو کہ اولاد سے محبت کرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ۔ اگر یہ مان لیا جائے تو ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ والدین اولاد کی معمولی پریشانی اور تکلیف پر تڑپ اٹھتے ہیں، اولاد کتنی ہی سرکش و نافرمان ہو، والدین ان کے لئے دعا ہی کرتے ہیں، تکلیف اولاد کو ہو، دکھ ماں محسوس کرتی ہے، والدین اولاد کو دکھی کبھی نہیں دیکھ سکتے۔ آپ نے یہ واقعہ ضرور پڑھا ہوگا کہ ایک شخص اپنی محبوبہ کے کہنے پر اپنی ماں کو قتل کرکے اس کا دل لے جارہا تھا، راہ میں اسے ٹھوکر لگی ماں کا دل بولا: بیٹا! کہیں چوٹ تو نہیں لگی؟ یہ واقعہ اولاد کی محبت کی پوری عکاسی ہے۔
اب ہم دیکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دنیا بنائی جس میں امیر، غریب، خوبصورت، بدصورت، اپاہج و معذور ہر قسم کے لوگ بنائے، لوگوں کو خوشیاں اور دکھ بھی دئیے، چند احکامات بھی دئیے، کچھ کو مسلمانوں میں پیدا کیا، کچھ کو کفار میں، مرنے کے بعد عذاب و ثواب رکھا، جزا جتنی خوبصورت، سزا اتنی ہی خطرناک، رونگٹے کھڑے کردینے والی، مسلسل اذیت دینے والی سزائیں جن کی تلافی بھی اس وقت ناممکن ہوگی، جاں کنی، قبر و حشر، غرض ہر جگہ عذاب و ثواب کا چکر․․․ مجھے تو یہ دنیا بھی عذاب ہی لگتی ہے، میں جب بھی یہ کچھ سوچتی ہوں مجھے ایسا لگتا ہے اللہ نے انسانوں کو کھلونوں کی مانند بنایا ہے جن سے وہ کھیلتا ہے اور کھیل کے انجام کے بعد سزا و جزا۔
آپ دل پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ ہر کوئی دنیا کو سرائے سمجھ سکتا ہے؟ دنیا کی رنگینی کو چھوڑ کر زندگی کون گزارسکتا ہے؟ پھر جو انسان کو بنایا اور اتنی پابندی کے ساتھ دنیا میں بھیجا، علاوہ ازیں دکھ سکھ دئیے، اگر والدین سے زیادہ اللہ محبت کرنے والے ہیں تو وہ بندوں کے دکھ پر کیوں نہیں تڑپتے؟ والدین جو سکھ دے سکتے ہیں دیتے ہیں، کیا اللہ تعالیٰ کا دل نہیں تڑپتا جب وہ دکھ دیتے ہیں بندوں کو؟ عذاب دے کر وہ خوش کیسے رہ سکتا ہے؟ جو کفار کے گھر پیدا ہوئے انہیں کس جرم کی سزا ملے گی؟ ہر شخص تو مذہب کا علم نہیں رکھتا۔ جب بھی عذاب کے بارے میں سوچتی ہوں میرے ذہن میں یہ سب کچھ ضرور آتا ہے، للہ! مجھے سمجھائیے کہیں یہ میری سوچ میرے لئے تباہ کن ثابت نہ ہو۔ (ایک خاتون)
ج… آپ کے سوال کا جواب اتنا تفصیل طلب ہے کہ میں کئی دن اس پر تقریر کروں تب بھی بات تشنہ رہے گی۔ اس لئے مختصراً اتنا سمجھ لیجئے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر والدین سے زیادہ رحیم و شفیق ہے۔ حدیث میں ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے، ایک حصہ دنیا میں نازل فرمایا، حیوانات اور درندے تک جو اپنی اولاد پر رحم کرتے ہیں وہ اسی رحمتِ الٰہی کے سو میں سے ایک حصے کا اثر ہے، اور یہ حصہ بھی ختم نہیں ہوا، بلکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس حصہ رحمت کو بھی باقی ننانوے حصوں کے ساتھ ملاکر اپنے بندوں پر کامل رحمت فرمائیں گے۔
اس کے بعد آپ کے دو سوال ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں پر تکلیفیں اور سختیاں کیوں آتی ہیں؟ اور دوم یہ کہ آخرت میں گناہ گاروں کو عذاب کیوں ہوگا؟
جہاں تک دنیا کی سختیوں اور تکلیفوں کا تعلق ہے یہ بھی حق تعالیٰ شانہ کی سراپا رحمت ہیں۔ حضرات عارفین اس کو خوب سمجھتے ہیں۔ ہم اگر ان پریشانیوں اور تکلیفوں سے نالاں ہیں تو محض اس لئے کہ ہم اصل حقیقت سے آگاہ نہیں، بچہ اگر پڑھنے لکھنے میں کوتاہی کرتا ہے تو والدین اس کی تأدیب کرتے ہیں، وہ نادان سمجھتا ہے کہ ماں باپ بڑا ظلم کر رہے ہیں۔ اگر کسی بیماری میں مبتلا ہو تو والدین اس سے پرہیز کراتے ہیں، اگر خدانخواستہ اس کے پھوڑا نکل آئے تو والدین اس کا آپریشن کراتے ہیں، وہ چیختا ہے اور اس کو ظلم سمجھتا ہے، بعض اوقات اپنی نادانی سے والدین کو برا بھلا کہنے لگتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح حق تعالیٰ کی جو عنایتیں بندے پر اس رنگ میں ہوتی ہیں بہت سے کم عقل ان کو نہیں سمجھتے، بلکہ حرفِ شکایت زبان پر لاتے ہیں، لیکن جن لوگوں کی نظرِ بصیرت صحیح ہے وہ ان کو الطافِ بے پایاں سمجھتے ہیں، چنانچہ حدیث میں ہے کہ: “جب اہل مصائب کو ان کی تکالیف و مصائب کا اجر قیامت کے دن دیا جائے گا تو لوگ تمنا کریں گے کہ کاش! یہ اجر ہمیں عطا کیا جاتا، خواہ دنیا میں ہمارے جسم قینچیوں سے کاٹے جاتے۔” (ترمذی ج:۱ ص:۶۲)۔ لہٰذا بندہٴ موٴمن کو حق تعالیٰ شانہ کی رحیمی و کریمی پر نظر رکھنی چاہئے، دنیا کے آلام و مصائب سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ یہ داروئے تلخ ہماری صحت و شفا کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ اگر بالفرض ان آلام و مصائب کا کوئی اور فائدہ نہ بھی ہوتا، نہ ان سے ہمارے گناہوں کا کفارہ ہوتا، نہ یہ ہماری ترقیٴ درجات کا موجب ہوتے اور نہ ان پر اجر و ثواب عطا کیا جاتا تب بھی ان کا یہی فائدہ کیا کم تھا کہ ان سے ہماری اصل حقیقت کھلتی ہے، کہ ہم بندے ہیں، خدا نہیں! خدانخواستہ ان تکالیف و مصائب کا سلسلہ نہ ہوتا تو یہ دنیا بندوں سے زیادہ خدا کہلانے والے فرعونوں سے بھری ہوئی ہوتی۔ یہی مصائب و آلام ہیں جو ہمیں جادہٴ عبدیت پر قائم رکھتے ہیں اور ہماری غفلت و مستی کے لئے تازیانہٴ عبرت بن جاتے ہیں اور پھر حق تعالیٰ تو محبوبِ حقیقی ہیں اور ہم ان سے محبت کے دعویدار․․․! کیا محبوبِ حقیقی کو اس ذرا سے امتحان کی بھی اجازت نہیں، جس سے محب صادق اور غلط مدعی کے درمیان امتیاز ہوسکے․․․؟ اور پھر اس پر بھی نظر رکھنی چاہئے کہ حق تعالیٰ شانہ کا کوئی فعل خالی از حکمت نہیں ہوتا، اب جو ناگوار حالات ہمیں پیش آتے ہیں ضرور ان میں بھی کوئی حکمت ہوگی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ان میں حق تعالیٰ شانہ کا کوئی نفع نہیں، بلکہ صرف اور صرف بندوں کا نفع ہے، گو اپنے ناقص علم و فہم سے ہم اس نفع کو محسوس نہ کرسکیں۔ الغرض ان مصائب و آلام میں حق تعالیٰ شانہ کی ہزاروں حکمتیں اور رحمتیں پوشیدہ ہیں اور جس کے ساتھ جو معاملہ کیا جارہا ہے وہ عین رحمت و حکمت ہے۔
رہا آخرت میں مجرموں کو سزا دینا! تو اول تو ان کا مجرم ہونا ہی سزا کے لئے کافی ہے، حق تعالیٰ شانہ نے تو اپنی رحمت کے دروازے کھلے رکھے تھے، اس کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا تھا، اپنی کتابیں نازل کی تھیں اور انسان کو بھلے برے کی تمیز کے لئے عقل و شعور اور ارادہ و اختیار کی نعمتیں دی تھیں۔ تو جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اللہ تعالیٰ کی بغاوت، انبیاء کرام علیہم السلام کی مخالفت، کتبِ الٰہیہ کی تکذیب اور اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے مقابلہ میں خرچ کیا، انہوں نے رحمت کے دروازے خود اپنے ہاتھ سے اپنے اوپر بند کرلئے، آپ کو ان پر کیوں ترس آتا ہے․․․؟
علاوہ ازیں اگر ان مجرموں کو سزا نہ دی جائے تو اس کے معنی اس کے سوا اور کیا ہیں کہ خدا کی بارگاہ میں موٴمن و کافر، نیک و بد، فرمانبردار و نافرمان، مطیع اور عاصی ایک ہی پلے میں تلتے ہیں، یہ تو خدائی نہ ہوئی اندھیر نگری ہوئی! الغرض آخرت میں مجرموں کو سزا اس لئے بھی قرینِ رحمت ہوئی کہ اس کے بغیر مطیع اور فرمانبردار بندوں سے انصاف نہیں ہوسکتا۔
یہ نکتہ بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ آخرت کا عذاب کفار کو تو بطورِ سزا ہوگا، لیکن گناہ گار مسلمانوں کو بطورِ سزا نہیں بلکہ بطورِ تطہیر ہوگا، جس طرح کپڑے کو میل کچیل دور کرنے کے لئے بھٹی میں ڈالا جاتا ہے، اسی طرح گناہ گاروں کی آلائشیں دور کرنے کے لئے بھٹی میں ڈالا جائے گا، اور جس طرح ڈاکٹر لوگ آپریشن کرنے کے لئے بدن کو سن کرنے والے انجکشن لگادیتے ہیں کہ اس کے بعد مریض کو چیرپھاڑ کا احساس تک نہیں ہوتا، بہت ممکن ہے کہ حق تعالیٰ شانہ گناہ گار مسلمانوں پر ایسی کیفیت طاری فرمادیں کہ ان کو درد و الم کا احساس نہ ہو، اور بہت سے گناہ گار ایسے ہوں گے کہ حق تعالیٰ شانہ کی رحمت ان کے گناہوں اور سیاہ کاریوں کے دفتر کو دھوڈالے گی اور بغیر عذاب کے انہیں معاف کردیا جائے گا۔ الغرض جنت پاک جگہ ہے اور پاک لوگوں ہی کے شایانِ شان ہے، جب تک گناہوں کی گندگی اور آلائش سے صفائی نہ ہو وہاں کا داخلہ میسر نہیں آئے گا، اور پاک صاف کرنے کی مختلف صورتیں ہوں گی، جس کے لئے جو صورت تقاضائے رحمت ہوگی وہ اس کے لئے تجویز کردی جائے گی۔ اس لئے اکابر مشائخ کا ارشاد ہے کہ آدمی کو ہمیشہ ظاہری و باطنی طہارت کا اہتمام رکھنا چاہئے اور گناہوں سے ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کرتے رہنا چاہئے۔ حق تعالیٰ شانہ محض اپنے لطف و کرم سے اس ناکارہ کی، آپ کی اور تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کی بخشش فرمائیں۔
رہا آپ کا یہ شبہ کہ دنیا کو کون سرائے سمجھ سکتا ہے اور دنیا کی رنگینی کو چھوڑ کر کون زندگی گزار سکتا ہے؟ میری بہن! یہ ہم لوگوں کے لئے جن کی آنکھوں پر غفلت کی سیاہ پٹیاں بندھی ہیں، واقعی بہت مشکل ہے، اپنے مشاہدہ کو جھٹلانا اور حق تعالیٰ شانہ کے وعدوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر اپنے مشاہدہ سے بڑھ کر یقین لانا خاص توفیق و سعادت کے ذریعہ ہی میسر آسکتا ہے۔ لیکن کم سے کم اتنا تو ہونا چاہئے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کی بات پر جتنا یقین و اعتماد رکھتے ہیں کم سے کم اتنا ہی یقین و اعتماد اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر رکھیں۔ دیکھئے! اگر کوئی معتبر آدمی ہمیں یہ خبر دیتا ہے کہ فلاں کھانے میں زہر ملا ہوا ہے، تو ہم اس شخص پر اعتماد کرتے ہوئے اس زہر آمیز کھانے کے قریب نہیں پھٹکیں گے، اور بھوکوں مرنے کو زہر کھانے پر ترجیح دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں دنیا کو یکسر چھوڑنے کی تعلیم نہیں فرماتے، بلکہ صرف دو چیزوں کی تعلیم فرماتے ہیں۔ ایک یہ کہ دنیا میں رہتے ہوئے کسبِ حلال کرو، جن جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام اور ناجائز قرار دیا ہے ان سے پرہیز کرو، کیونکہ یہ زہر ہے جو تمہاری دنیا و آخرت کو برباد کردے گا اور اگر غفلت سے اس زہر کو کھاچکے ہو تو فوراً توبہ و ندامت اور استغفار کے تریاق سے اس کا تدارک کرو۔
اور دوسری تعلیم یہ ہے کہ دنیا میں اتنا انہماک نہ کرو کہ آخرت اور ما بعد الموت کی تیاری سے غافل ہوجاوٴ، دنیا کے لئے محنت ضرور کرو، مگر صرف اتنی جس قدر کہ دنیا میں رہنا ہے، اور آخرت کے لئے اس قدر محنت کرو جتنا کہ آخرت میں تمہیں رہنا ہے۔ دنیا کی مثال شیرے کی ہے، جس کو شیریں اور لذیذ سمجھ کر مکھی اس پر جابیٹھتی ہے، لیکن پھر اس سے اٹھ نہیں سکتی، تمہیں شیرہٴ دنیا کی مکھی نہیں بننا چاہئے۔
اور آپ کا یہ شبہ کہ جو لوگ کافروں کے گھر میں پیدا ہوئے انہیں کس جرم کی سزا ملے گی؟ اس کا جواب میں اوپر عرض کرچکا ہوں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سیاہ و سفید کی تمیز کرنے کے لئے بینائی عطا فرمائی ہے، اسی طرح صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے کے لئے عقل و فہم اور شعور کی دولت بخشی ہے، پھر صحیح اور غلط کے درمیان امتیاز کرنے کے لئے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا ہے، کتابیں نازل فرمائی ہیں، شریعت عطا فرمائی ہے، یہ سب کچھ اس لئے ہے تاکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوجائے، اور وہ کل عذر نہ کرسکیں کہ ہم نے کافر باپ دادا کے گھر جنم لیا تھا اور ہم آنکھیں بند کرکے انہی گمراہوں کے نقش قدم پر چلتے رہے۔
اس مختصر سی تقریر کے بعد میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ بندے کا کام بندگی کرنا ہے، خدائی کرنا یا خدا تعالیٰ کو مشورے دینا نہیں! آپ اس کام میں لگیں جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے، اور ان معاملات میں نہ سوچیں جو ہمارے سپرد نہیں۔ ایک گھسیارہ اگر رموزِ مملکت و جہاں بانی کو نہیں سمجھتا تو یہ مشتِ خاک اور قطرہٴ ناپاک رموزِ خداوندی کو کیا سمجھے گا․․․؟ پس اس دیوار سے سر پھوڑنے کا کیا فائدہ، جس میں ہم سوراخ نہیں کرسکتے اور جس کے پار جھانک کر نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سلامتیٴ فہم نصیب فرمائیں اور اپنی رحمت کا مورد بنائیں۔
توبہ سے گناہ کبیرہ کی معافی
س… کیا توبہ کرنے سے تمام کبیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟ اگر معاف ہوجاتے ہیں تو کیا قتل بھی معاف ہوجاتا ہے؟ کیونکہ قتل کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اس مسئلہ پر یہاں پر بعض مولانا صاحب اس کے قائل ہیں کہ توبہ سے قتل بھی معاف ہوجاتا ہے، لیکن بعض کہتے ہیں کہ قتل حقوق العباد میں سے ہے، حقوق اللہ تو معاف ہوجاتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں آپ وضاحت فرمائیں۔
ج… قتلِ ناحق ان سات کبیرہ گناہوں میں سے ایک ہے جن کو حدیث میں “ہلاک کرنے والے” فرمایا ہے، یہ حق اللہ بھی ہے اور حق العبد بھی، تاہم جس سے یہ کبیرہ گناہ سرزد ہوگیا ہو اس کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے اور ہمیشہ مانگتا رہے، مگر چونکہ اس قتل سے حق العبد بھی متعلق ہے اس لئے مقتول کے وارثوں سے معاف کرانا بھی ضروری ہے۔
اپنے گناہوں کی سزا کی دعا کے بجائے معافی کی دعا مانگیں
س… مجھ پر اپنے گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے جب بھی رقت طاری ہوجاتی ہے بے اختیار دعا کرتی ہوں کہ خدا مجھے اس کی سزا دے دے، مجھے سزا دے دے۔ کیا مجھے ایسی دعا کرنا چاہئے یا یہ غلط ہے؟
ج… ایسی دعا ہرگز نہیں کرنی چاہئے، بلکہ یہ دعا کرنی چاہئے کہ خواہ میں کتنی ہی گناہ گار ہوں اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ ان کی رحمت کا ایک چھینٹا دنیا بھر کے گناہوں کو دھونے کے لئے کافی ہے، اور پھر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرنا کہ وہ مجھے گناہوں کی سزا دے، اس کے معنی ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی سزا کو برداشت کرسکتے ہیں۔ توبہ! توبہ! ہم تو اتنے کمزور ہیں کہ معمولی تکلیف بھی نہیں سہارسکتے اس لئے اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ عافیت مانگنی چاہئے۔
بار بار توبہ اور گناہ کرنے والے کی بخشش
س… آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کئی ایسے مسلمان بھی ہیں جو پنج وقتہ نماز قائم کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے صغیرہ و کبیرہ گناہ کرتے ہیں جن کو اسلام منع کرتا ہے اور پھر یہ لوگ گناہ کرکے توبہ کرتے ہیں، اور پھر دوبارہ وہی کام کرتے ہیں جس سے توبہ کی تھی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ ایسے لوگوں کا جن میں، میں بذاتِ خود شامل ہوں روزِ قیامت میں کیا حشر ہوگا؟
ج… گناہ تو ہرگز نہیں کرنا چاہئے، ارادہ یہی ہونا چاہئے کہ کوئی گناہ نہیں کروں گا، لیکن اگر ہوجائے تو توبہ ضرور کرلینی چاہئے، اگر خدانخواستہ دن میں ستربار گناہ ہوجائے تو ہر بار توبہ بھی ضرور کرنی چاہئے، یہاں تک کہ آدمی کا خاتمہ توبہ پر ہو ایسا شخص مغفور ہوگا۔
کیا بغیر سزا کے مجرم کی توبہ قبول ہوسکتی ہے
س… کیا بغیر سزا کے اسلام میں توبہ ہے؟ مثلاً: اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کو دیکھیں تو کئی واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مجرم کو سزا کا حکم دیا پھر اس کی مغفرت کے لئے دعا کی۔
ج… اگر مجرم کا معاملہ عدالت تک نہ پہنچے اور وہ سچے دل سے اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرنے والے ہیں، لیکن عدالت میں شکایت ہوجانے کے بعد سزا ضروری ہوجاتی ہے، بشرطیکہ جرم ثابت ہوجائے، اس صورت میں توبہ سے سزا معاف نہ ہوگی اس لئے اگر کسی سے قابل سزا گناہ صادر ہوجائے تو حتی الوسع اس کی شکایت حاکم تک نہیں پہنچانی چاہئے، اس پر پردہ ڈالنا چاہئے اور اس کی توبہ قبول کرنی چاہئے۔
بغیر توبہ کے گناہ گار مسلمان کی مرنے کے بعد نجات
س… اگر کوئی شخص بہت گناہ گار ہو اور وہ توبہ کئے بغیر مرجائے تو ایسے شخص کی نجات کا کوئی راستہ ہے؟ جبکہ اس کی اولاد بھی نہ ہو۔
ج… موٴمن کو بغیر توبہ کے مرنا ہی نہیں چاہئے، بلکہ رات کے گناہوں سے، دن طلوع ہونے سے پہلے، اور دن کے گناہوں سے رات آنے سے پہلے توبہ کرتے رہنا چاہئے۔ جو مسلمان توبہ کئے بغیر مرجائے اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، چاہے اپنے فضل سے بغیر سزا کے معاف کردے، یا سزا کے بعد اسے رہا کردے۔
فرعون کا ڈوبتے وقت توبہ کرنے کا اعتبار نہیں
س… ایک شخص کہتا ہے کہ جب فرعون مع اپنے لشکر کے دریائے نیل میں غرق ہوا اور ڈوبنے لگا تو اس نے کہا کہ اے موسیٰ میں نے تیرے رب کو مان لیا، تیرا رب سچا اور سب سے برتر ہے، پھر بھی موسیٰ علیہ السلام نے اسے بذریعہ دعا کیوں نہیں اپنے رب سے بچوایا؟ اب وہ شخص کہتا ہے کہ بروزِ قیامت موسیٰ علیہ السلام سے سوال کیا جائے گا کہ جب فرعون نے توبہ کرلی اور مجھے رب مان لیا تو اے موسیٰ تو نے کیوں نہیں اس کے حق میں دعا کرکے اسے بچایا؟ وہ اپنی بات پر مصر ہے کہ ضرور یہ سوال روزِ محشر موسیٰ علیہ السلام سے کیا جائے گا۔ اس شخص کا بیان نوٹ کرکے میں نے آپ تک پہنچایا ہے، اب آپ اپنے حل سے ضرور نوازیں کہ آیا وہ شخص گناہ گار ہوگا؟ وہ ٹھیک کہتا ہے یا کہ غلط؟
ج… فرعون کا ڈوبتے وقت ایمان لانا معتبر نہیں تھا، کیونکہ نزع کے وقت کی نہ توبہ قبول ہوتی ہے نہ ایمان! اس شخص کا موسیٰ علیہ السلام پر اعتراض کرنا بالکل غلط اور بے ہودہ ہے، اس کو اس خیال سے توبہ کرنی چاہئے، وہ نہ صرف گناہ گار ہو رہا ہے بلکہ ایک جلیل القدر نبی پر اعتراض کفر کے زمرہ میں آتا ہے۔
صدقِ دل سے کلمہ پڑھنے والے انسان کو اعمال کی کوتاہی کی سزا
س… کیا جس مسلمان نے صدقِ دل سے کلمہ طیبہ پڑھا ہو، رسالت وغیرہ پر ایمان ہو مگر زندگی میں قصداً کئی نمازیں اور فرائض اسلام ترک کئے ہوں، تو ایسا مسلمان اپنی سزا بھگت کر جنت میں جاسکے گا یا ہمیشہ دوزخ کا ہی ایندھن بنا رہے گا؟
ج… نماز چھوڑنا اور دیگر احکامِ اسلام کو چھوڑنا سخت گناہ اور معصیت ہے، احادیث میں نماز چھوڑنے والے کے لئے سخت وعیدیں آئی ہیں اور ان احکام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے انسان فاسق ہوجاتا ہے اور آخرت میں عذاب میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے، لیکن اس کے باوجود اگر ایسے بدعمل شخص کا عقیدہ صحیح ہو، توحید و رسالت پر قائم ہو، ضروریاتِ دین کو مانتا ہو، وہ آخرکار جنت میں جائے گا خواہ سزا سے پہلے یا سزا پانے کے بعد، لیکن اگر کسی کا عقیدہ ہی خراب ہو، کفر اور شرک میں مبتلا ہو، یا ضروریاتِ دین کا انکار صریح بلاتاویل کرے، تو ایسے شخص کی نجات کبھی نہ ہوگی، وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہے گا، کبھی اس کو دوزخ کے عذاب سے رہائی نہیں ملے گی۔
نماز، روزوں کی پابند مگر شوہر اور بچوں سے لڑنے والی
بیوی کا انجام
س… ایک عورت جو بہت ہی نماز، روزہ کی پابند ہے، کسی حالت میں بھی روزہ نماز نہیں چھوڑتی ہے، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں روزہ رکھتی ہے اور صبح شام قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہے، اس کے سات بچے ہیں، جو کہ سب ہی اعلیٰ تعلیم پارہے ہیں مگر وہ عورت بہت ہی غصے والی ہے اور ضدی بھی، بعض موقع پر بچوں اور شوہر سے لڑپڑتی ہے یہاں تک کہ غصہ کی وجہ سے ان لوگوں سے ماہ دو ماہ تک بولنا ترک کردیتی ہے، یہاں تک کہ شوہر اور بچوں کو مرنے کی بددعائیں دیتی رہتی ہے، مگر اپنی نماز بدستور پڑھتی ہے، غصہ اتنا زیادہ ہے کہ شوہر اور بچوں کی ہر بات پر جو صحیح بھی ہوتی ہے تو بھی غصہ میں آجاتی ہے، اس کی مرضی کے خلاف اگر کوئی بات ہوجاتی ہے قیامت برپا کردیتی ہے، جبکہ مسلمان کو تین روز سے زیادہ غصہ رکھنا حرام ہوتا ہے تو کیا ڈیڑھ دو ماہ غصہ رکھ کر نماز، روزہ اور کوئی عبادت قبول ہوتی ہے یا نہیں؟ اور ایسی حالت میں نماز، روزہ ہوسکتا ہے کہ نہیں؟ جبکہ ایک مسئلہ میں آپ فرماتے ہیں کہ بغیر عذر کے مسجد اور جماعت کا ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے، یہاں تو غصہ حرام ہے اور اس حرام کے ساتھ نماز روزہ اور کسی عبادت کی کیا حیثیت ہوسکتی ہے؟
ج… نماز روزہ تو اس خاتون کا ہوجاتا ہے اور کرنا بھی چاہئے، لیکن اتنا زیادہ غصہ اس کی نیکی کو برباد کردیتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ: ایک عورت نماز روزہ بہت کرتی ہے مگر ہمسائے اس سے نالاں ہیں۔
فرمایا: “وہ دوزخ میں ہے۔” عرض کیا گیا کہ: ایک عورت فرائض کے علاوہ نفلی نماز تو زیادہ نہیں پڑھتی مگر اس کے ہمسائے اس سے بہت خوش ہیں۔ فرمایا: “وہ جنت میں ہے۔”
خصوصاً کسی خاتون کی اپنے شوہر اور اپنے بچوں سے بدمزاجی تو سو عیبوں کا ایک عیب ہے، ایسی عورت کا آخرت میں تو انجام ہوگا سو ہوگا اس کی دنیا بھی اس کے لئے جہنم سے کم نہیں اور اگر اس کے شوہر صاحب اور بچے (جو بالغ ہوں) نماز روزے کے پابند نہیں تو جو انجام اس عورت کا ہوگا وہی ان کا بھی ہوگا۔
سچی توبہ اور حقوق العباد
س… اگر انسان گناہِ کبیرہ کرتا ہے، مثال کے طور پر زنا یا شراب پیتا ہے، کسی کا حق مارتا ہے، کسی کا دل توڑتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو نیک ہدایت دیتا ہے وہ ان گناہوں سے توبہ کرتا ہے اور آئندہ کے لئے پرہیز کرتا ہے، کیا اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے؟
میں بچپن میں تقریباً ۱۵ سال کی عمر تک نانی کے ساتھ رہا، میں نے اپنی نانی کا دل دکھایا، انہیں تنگ کیا، انہوں نے مجھے بددعا دی اور نانی کا انتقال ہوئے ۷ سال ہوگئے ہیں، اب میں ۲۲ سال کا ہوں، میں چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے۔
ج… سچی توبہ سے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، البتہ حقوق ذمہ رہ جاتے ہیں، پس اگر کسی کا مالی حق اپنے ذمہ ہو تو اس کو ادا کردے یا صاحبِ حق سے معاف کرالے، اور اگر غیرمالی حق ہو (جیسے کسی کو مارنا، گالی دینا، غیبت کرنا وغیرہ) تو اس کی زندگی میں اس سے معاف کرائے، اور اس کے مرنے کے بعد اس کے لئے دعا و استغفار کرتا رہے، انشاء اللہ معافی ہوجائے گی۔
گناہ گار دوسروں کو گناہ سے روک سکتا ہے
س… میں ایک گناہ گار آدمی ہوں، انتہائی گناہ کئے ہیں او رکر رہا ہوں۔ لیکن میری فطرت یہ ہے کہ میں جو گناہ کرتا ہوں اگر وہی گناہ کسی اور کو کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو اسے خدا کا خوف دلاتا ہوں کہ تم کو ایسے گناہ نہیں کرنے چاہئیں، حالانکہ میں خود اس گناہ میں مبتلا ہوتا ہوں۔ ایک دفعہ کسی کتاب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نظر سے گزرا:
“ایک آدمی قیامت کے دن لایا جائے گا اور آگ میں ڈال دیا جائے گا، تو اس کی انتڑیاں آگے سے نکل پڑیں گی، دوسرے جہنمی اس سے پوچھیں گے اے فلاں! تو، تو ہمیں نیکی کی تلقین کیا کرتا تھا پھر اس عذاب میں؟ وہ کہے گا: ہاں! میں تمہیں نیکی کی تلقین کرتا تھا مگر خود اس کے قریب نہ جاتا تھا اور برائیوں سے تم کو روکتا تھا اور خود برائیاں کرتا تھا۔”
مندرجہ بالا ارشاد گرامی پڑھنے کے بعد میں نے لوگوں کو ہدایت کرنا بند کردی ہے، اب جب کسی کو گناہ میں مبتلا دیکھتا ہوں تو بھی اسے منع نہیں کرتا کہ میں خود گناہ گار ہوں، اگر میں اسے منع کروں گا تو میرا قیامت والے دن وہی حشر ہوگا۔ آپ وضاحت فرمادیں کہ میں کیا کروں؟ گناہوں سے متعدد بار توبہ کی ہے مگر پھر وہی گناہ سرزد ہوجاتے ہیں، درجنوں قسموں کا کفارہ میرے سر پر ہے، ہر گناہ کے لئے قسم کھاتا ہوں مگر وہ گناہ کسی نہ کسی صورت میں ہوجاتا ہے، غرض کہ دل بالکل کالا ہوچکا ہے اور شیطان کے راستے پر گامزن ہوں، خدا میری حالت پر رحم کرے، اور آپ بھی دعا کریں اور کچھ ہدایت و نصیحت فرمادیں۔
ج… گناہ گار اگر دوسروں کو گناہ سے روکے تو یہ بھی نیکی کا کام ہے، دوسروں کو گناہ سے باز رکھنے کا کام تو نہیں چھوڑنا چاہئے، البتہ خود گناہ کو چھوڑنے کی ہمت ضرور کرنی چاہئے۔
اس کے لئے آپ مجھ سے نجی خط و کتابت کریں، اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوئی تو انشاء اللہ آپ کو سچی توبہ کی توفیق ہوجائے گی، گناہوں سے پریشان نہیں ہونا چاہئے البتہ ان کے تدارک کا اہتمام کرنا چاہئے۔

ایک یھودی نو جوان کی توبہ

حضرت امام باقر علیہ السلام فرماتے ھیں:
ایک یھودی نوجوان اکثر رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی خدمت میں آیا کرتا تھا ، پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  بھی اس کی آمد و رفت پر کوئی اعتراض نھیں کیا کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تو اس کو کسی کام کے لئے بھیج دیا کرتے تھے، یا اس کے ھاتھوں قوم یھود کو خط بھیج دیا کرتے تھے۔
لیکن ایک مرتبہ وہ چند روز تک نہ آیا، پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس کے بارے میں سوال کیا، تو ایک شخص نے کھا: میں نے اس کو بھت شدید بیماری کی حالت میں دیکھا ھے شاید یہ اس کا آخری دن ھو، یہ سن کر پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  چند اصحاب کے ساتھ اس کی عیادت کے تشریف لئے گئے، وہ کوئی گفتگو نھیں کرتا تھا لیکن جب آنحضرت  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  وھاں پہنچے تو وہ آپ کا جواب دینے لگا، چنانچہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس جوان کو آواز دی، اس جوان نے آنکھیں کھولی اور کھا: لبیک یا ابا القاسم! آنحضرت  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: کھو: ”اشہد ان لا الہ الا الله، وانی رسول الله“۔
جیسے ھی اس نوجوان کی نظر اپنے باپ کی (ترچھی نگاھوں) پر پڑی ، وہ کچھ نہ کہہ سکا، پیغمبر اکرم  نے اس کو دوبارہ شھادتین کی دعوت دی ، اس مرتبہ بھی اپنے باپ کی ترچھی نگاھوں کو دیکھ کر خاموش رھا، رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے تیسری مرتبہ اس کو یھودیت سے توبہ کرنے اور شھادتین کو قبول کرنے کی دعوت دی، اس جوان نے ایک بار پھر اپنے باپ کی چھرے پر نظر ڈالی، اس وقت پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا: اگر تیری مرضی ھے تو شھادتین قبول کرلے ورنہ خاموش رہ، اس وقت جوان نے اپنے باپ پر توجہ کئے بغیر اپنی مرضی سے شھادتین کہہ دیں اور اس دنیا سے رخصت ھوگیا! پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس جوان کے باپ سے فرمایا: اس جوان کے لاشے کو ھمارے حوالے کردو، اور پھر اپنے اصحاب سے فرمایا: اس کو غسل دو، کفن پہناؤ، اور میرے پاس لاؤ تاکہ میں اس پر نماز پڑھوں، اس کے بعد اس یھودی کے گھر سے نکل آئے آنحضرت  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کھتے جاتے تھے:  خدایا تیرا شکر ھے کہ آج تو نے میرے ذریعہ ایک نوجوان کو آتش جہنم سے نجات دیدی![5]

میدان جنگ میں توبہ

”نصر بن مزاحم“ کتاب واقعہ صفین میں نقل کرتے ھیں: ھاشم مرقال کھتے ھیں: جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کے لئے چند قاریان قرآن شریک تھے، معاویہ کی طرف سے طائفہ ”غسّان“ کا ایک جوان میدان میں آیا، اس نے رجز پڑھا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں جسارت کرتے ھوئے مقابلہ کے لئے للکارا، مجھے بھت زیادہ غصہ آیا کہ معاویہ کے غلط پروپیگنڈے نے اس طرح لوگوں کو گمراہ کررکھا ھے، واقعاً میرا دل کباب ھوگیا، میں نے میدان کا رخ کیا، اور اس غافل جوان سے کھا: اے جوان! جو کچھ بھی تمھاری زبان سے نکلتا ھے، خدا کی بارگاہ میں اس کا حساب و کتاب ھوگا، اگر خداوندعالم نے تجھ سے پوچھ لیا :
 علی بن ابی طالب سے کیوں جنگ کی ؟ تو کیا جواب دے گا؟
چنانچہ اس جوان نے کھا:
 میں خدا کی بارگاہ میں حجت شرعی رکھتا ھو کیونکہ میری تم سے جنگ علی بن ابی طالب کے بے نمازی ھونے کی وجہ سے ھے!
ھاشم مرقال کھتے ھیں: میں نے اس کے سامنے حقیقت بیان کی،معاویہ کی مکاری اور چال بازیوں کو واضح کیا۔ جیسے ھی اس نے یہ سب کچھ سنا، اس نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کی، اور توبہ کی، اور حق کا دفاع کرنے کے لئے معاویہ کے لشکر سے جنگ کے لئے نکل گیا۔

ایک نمونہ خاتون

آسیہ ،فرعون کی زوجہ تھی، وہ فرعون جس میں غرور و تکبر کا نشہ بھرا تھا، جس کا نفس شریر تھا اور جس کے عقائد اور اعمال باطل وفاسد تھے۔
قرآن مجید نے فرعون کو متکبر، ظالم ، ستم گر اور خون بھانے والے کے عنوان سے یاد کیا ھے اور اس کو ”طاغوت“ کا نام دیا ھے۔
آسیہ ، فرعون کے ساتھ زندگی بسر کرتی تھی، اور فرعونی حکومت کی ملکہ تھی، تمام چیزیں اس کے اختیار میں تھیں۔
وہ بھی اپنے شوھر کی طرح فرمانروائی کرتی تھی، اور اپنی مرضی کے مطابق ملکی خزانہ سے فائدہ اٹھاتی تھی۔
ایسے شوھر کے ساتھ زندگی، ایسی حکومت کے ساتھ ایسے دربار کے اندر، اس قدر مال و دولت، اطاعت گزار غلام او رکنیزوں کے ساتھ میں اس کی ایک بھترین زندگی تھی۔
ایک جوان اور قدرتمند خاتون نے اس ماحول میں پیغمبر الٰھی جناب موسی بن عمران کے ذریعہ الٰھی پیغام سنا، اس نے اپنے شوھر کے طور طریقے اور اعمال کے باطل ھونے کو سمجھ لیا، چنانچہ نور حقیقت اس کے دل میں چمک اٹھا۔
حالانکہ اس کو معلوم تھا کہ ایمان لانے کی وجہ سے اس کی تمام خوشیاں اور مقام و منصب چھن سکتا ھے یھاں تک کہ جان بھی جاسکتی ھے، لیکن اس نے حق کو قبول کرلیا اور وہ خداوندمھربان پر ایمان لے آئی،اور اپنے گزشتہ اعمال سے توبہ کرلی اور نیک اعمال کے ذریعہ اپنی آخرت کو آباد کرنے کی فکر میں لگ گئی۔
اس کا توبہ کرنا کوئی آسان کام نھیں تھا، اس کی وجہ سے اسے اپنا تمام مال و دولت اور منصب ترک کرنا پڑا، اور فرعون و فرعونیوں کی ملامت ضرب و شتم کو برداشت کرنا پڑا،لیکن پھر بھی وہ توبہ ، ایمان، عمل صالح اور ہدایت کی طرف قدم آگے بڑھاتی رھی۔
جناب آسیہ کی توبہ ،فرعون اور اس کے درباریوں کو ناگوار گزری، کیونکہ پورے شھر میں اس بات کی شھرت ھوگئی کہ فرعون کی بیوی اور ملکہ نے فرعونی طور طریقہ کو ٹھکراتے ھوئے مذھب کلیم اللہ کو منتخب کرلیا ھے، سمجھا بجھاکر، ترغیب دلاکراور ڈرا دھمکاکر بھی آسیہ کے بڑھتے قدم کو نھیں روکا جاسکتا تھا، وہ اپنے دل کی آنکھوں سے حق کو دیکھ کر قبول کرچکی تھی، اس نے باطل کے کھوکھلے پن کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا تھا، لہٰذا حق و حقیقت تک پہنچنے کے بعد اس کو ھاتھ سے نھیں کھوسکتی تھی اور کھوکھلے باطل کی طرف نھیں لوٹ سکتی تھی۔
جی ھاں، یہ کیسے ھوسکتا ھے کہ خدا کو فرعون سے، حق کو باطل سے، نور کو ظلمت سے، صحیح کو غلط سے، آخرت کو دنیا سے، بہشت کو دوزخ سے، اورسعادت کو بدبختی سے بدل لے۔
جناب آسیہ نے اپنے ایمان، توبہ و استغفار پر استقامت کی ، جبکہ فرعون دوبارہ باطل کی طرف لوٹا نے کے لئے کوشش کررھا تھا۔
فرعون نے جناب آسیہ سے مقابلہ کی ٹھان لی، غضبناک ھوا، اس کے غضب کی آگ بھڑک اٹھی، لیکن آسیہ کی ثابت قدمی کے مقابلہ میں ھار گیا، اس نے آسیہ کو شکنجہ دینے کا حکم دیا، اور اس عظیم خاتون کے ھاتھ پیر کو باندھ دیا، اور سخت سے سخت سزا دینے کے بعد پھانسی کا حکم دیدیا،اس نے اپنے جلادوں کو حکم دیا کہ اس کے اوپر بڑے بڑے پتھر گرائے جائیں ،لیکن جناب آسیہ نے دنیا و آخرت کی سعادت و خوشبختی حاصل کرنے کے لئے صبر کیا، اور ان تمام سخت حالات میں خدا سے لَو لگائے رکھی۔
جناب آسیہ کی حقیقی توبہ، ایمان و جھاد، صبر و استقامت، یقین اور مستحکم عزم کی وجہ سے قرآن مجید نے ان کو قیامت تک مومن و مومنات کے لئے نمونہ کے طور پر پہنچوایا ھے،تاکہ ھر زمانہ کے گناھگار کے لئے عذر و بھانہ کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے اور کوئی یہ نہ کہہ دے کہ توبہ، ایمان اور عمل صالح کا کوئی راستہ باقی نھیں رھا تھا۔
(( وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً لِلَّذینَ آمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعُوْنَ اِذْقالَتْ رَبِّ ابْنِ لی عِنْدَکَ بَیْتاً فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنیٖ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہِ وَنَجِّنی مِنَ الْقَوْمِ الظّالِمینَ))۔[2]
”اورخد ا نے ایمان والوں کے لئے فرعون کی زوجہ کی مثال بیان کی کہ اس نے دعا کی کہ پروردگار میرے لئے جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے درباریوںسے نجات دلادے اور اس پوری ظالم قوم سے نجات عطا فرمادے “۔
توبہ، ایمان، صبر اور استقامت کی بنا پر اس عظیم الشان خاتون کا مرتبہ اس بلندی پر پہنچا ھوا تھا کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے ان کے بارے میں فرمایا:
”اِشْتاقَتِ الْجَنَّةُ اِلٰی اَرْبَعٍ مِنَ النِّساءِ :مَرْیَمَ بِنْتِ عِمْرانَ،وَآسِیَةَ بِنْتِ مُزاحِمٍ زَوْجَةِ فِرْعَوْنَ،وَخَدیجَةَ بِنْتِ خُوَیْلَدٍزَوْجَةِ النَّبِیِّ فِی الدُّنْیا وَالآخِرَةِ،وَ فاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ:“۔[3]
”جنت چار عورتوں کی مشتاق ھے، مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون، خدیجہ بنت خویلد دنیا و آخرت میں ھمسر پیغمبر، اور فاطمہ بنت محمد ۔“
”شعوانہ “کی توبہ
مرحوم ملا احمد نراقی اپنی عظیم الشان اخلاقی کتاب ”معراج السعادة“ میں حقیقی توبہ کے سلسلہ میں ایک عجیب و غریب واقعہ بیان کرتے ھیں:
شعوانہ ایک جوان رقّاصہ عورت تھی، جس کی آواز نھایت سریلی تھی ، لیکن اس کو حلال و حرام پر کوئی توجہ نھیں تھی، شھر بصرہ کے مالداروں کے یھاں فسق و فجور کی کوئی ایسی محفل نہ تھی جس میں شعوانہ بلائی نہ جاتی ھو، وہ ان محفلوں میں ناچ گانا کیا کرتی تھی ، یھی نھیں بلکہ اس کے ساتھ کچھ لڑکیاں اور عورتیں بھی ھوتی تھیں۔
ایک روز اپنے سھیلیوںکے ساتھ ایسی ھی محفلوں میں جانے کے لئے ایک گلی سے گزر رھی تھی کہ اچانک دیکھا کہ ایک گھر سے نالہ و شیون کی آواز آرھی ھے، اس نے تعجب کے ساتھ سوال کیا: یہ کیسا شور ھے؟ اور اپنی ایک سھیلی کو حالات معلوم کرنے کے لئے بھیج دیا، لیکن بھت دیر انتظار کے بعد بھی وہ نہ پلٹی، اس نے دوسری سھیلی کو بھیجا، لیکن وہ بھی واپس نہ آئی، تیسری کو بھی روانہ کیا اور ہدایت کردی کہ جلد لوٹ کر آنا، چنانچہ جب وہ گئی اور تھوڑی دیر بعد لوٹ کر آئی تو اس نے بتایا کہ یہ سب نالہ و شیون بدکار اور گناھگارافراد کا ھے!
شعوانہ نے کھا:  میں خود جاکر دیکھتی ھوں کیا ھورھا ھے۔
جیسے ھی وہ وھاں پہنچی اور دیکھا کہ ایک واعظ لوگوں کو وعظ کررھے ھیں، اور اس آیہ شریفہ کی تلاوت کررھے ھیں:
(( إِذَا رَاٴَتْھم مِنْ مَکَانٍ بَعِیدٍ سَمِعُوا لَھا تَغَیُّظًا وَزَفِیرًا ۔ وَإِذَا اٴُلْقُوا مِنْھا مَکَانًا ضَیِّقًا مُقَرَّنِینَ دَعَوْا ہُنَالِکَ ثُبُورًا))۔[4]
”جب آتش (دوزخ) ان لوگوں کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے بھڑکتے ھوئے شعلوں کی آوازیں سنیں گے۔ اور جب انھیں زنجیروں میں جکڑ کر کسی تنگ جگہ میں ڈال دیا جائے گا تو وھاں موت کی دھائی دیں گے“۔
جیسے ھی شعوانہ نے اس آیت کو سنا اور اس کے معنی پر توجہ کی ، اس نے بھی ایک چیخ ماری اور کھا: اے واعظ! میں بھی ایک گناھگار ھوں، میرا نامہ اعمال سیاہ ھے، میں بھی شرمندہ اور پشیمان ھوں، اگر میںتوبہ کروں تو کیا میری توبہ بارگاہ الٰھی میں قبول ھوسکتی ھے؟
واعظ نے کھا: ھاں، تیرے گناہ بھی قابل بخشش ھیں، اگرچہ شعوانہ کے برابر ھی کیوں نہ ھوں!
اس نے کھا: وائے ھو مجھ پر،ارے میں ھی تو”شعوانہ “ھوں، افسوس کہ میں کس قدر گناھوں سے آلودہ ھوں کہ لوگوں نے مجھے گناھگار کی ضرب المثل بنادیا ھے!!
اے واعظ! میںتوبہ کرتی ھوں اور اس کے بعدکوئی گناہ نہ کروں گی، اور اپنے دامن کو گناھوں سے بچاؤں گی اورگناھگاروں کی محفل میں قدم نھیں رکھوں گی۔
واعظ نے کھا: خداوندعالم تیری نسبت بھی”ارحم الراحمین“ ھے۔
واقعاً شعوانہ نے توبہ کرلی، عبادت و بندگی میں مشغول ھوگئی،گناھوں سے پیدا ھوئے گوشت کو پگھلادیا، سوز جگر، اور دل کی تڑپ سے آہ وبکاکرتی تھی : ھائے ! یہ میری دنیا ھے، تو آخرت کا کیا عالم ھوگا، لیکن اس نے اپنے دل میں ایک آواز کا احساس کیا: خدا کی عبادت میں مشغول رہ، تب آخرت میں دیکھنا کیا ھوتا ھے۔
میدان جنگ میں توبہ
”نصر بن مزاحم“ کتاب واقعہ صفین میں نقل کرتے ھیں: ھاشم مرقال کھتے ھیں: جنگ صفین میں حضرت علی علیہ السلام کی نصرت کے لئے چند قاریان قرآن شریک تھے، معاویہ کی طرف سے طائفہ ”غسّان“ کا ایک جوان میدان میں آیا، اس نے رجز پڑھا اور حضرت علی علیہ السلام کی شان میں جسارت کرتے ھوئے مقابلہ کے لئے للکارا، مجھے بھت زیادہ غصہ آیا کہ معاویہ کے غلط پروپیگنڈے نے اس طرح لوگوں کو گمراہ کررکھا ھے، واقعاً میرا دل کباب ھوگیا، میں نے میدان کا رخ کیا، اور اس غافل جوان سے کھا: اے جوان! جو کچھ بھی تمھاری زبان سے نکلتا ھے، خدا کی بارگاہ میں اس کا حساب و کتاب ھوگا، اگر خداوندعالم نے تجھ سے پوچھ لیا :
 علی بن ابی طالب سے کیوں جنگ کی ؟ تو کیا جواب دے گا؟
چنانچہ اس جوان نے کھا:
 میں خدا کی بارگاہ میں حجت شرعی رکھتا ھو کیونکہ میری تم سے جنگ علی بن ابی طالب کے بے نمازی ھونے کی وجہ سے ھے!
ھاشم مرقال کھتے ھیں: میں نے اس کے سامنے حقیقت بیان کی،معاویہ کی مکاری اور چال بازیوں کو واضح کیا۔ جیسے ھی اس نے یہ سب کچھ سنا، اس نے خدا کی بارگاہ میں استغفار کی، اور توبہ کی، اور حق کا دفاع کرنے کے لئے معاویہ کے لشکر سے جنگ کے لئے نکل گیا۔

موسیٰ علیہ السلام کے ایک امتی کی توبہ کا واقعہ

حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں ایک آدمی تھا۔وہ اپنی توبہ کے اوپر جمع نہیں رہتا تھا ۔۔اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کے اوپر وحی نازل فرمائی کہ اس نوجوان کو کہہ دو اپنی توبہ کو نہیں توڑنا، اگر تو اپنے گناہ کی طرف لوٹا تو میں تجھے سزا دوں اور تیری توبہ بھی قبول نہیں کروں گا۔۔۔موسی علیہ السلام نے پیغام پہنچا دیا
اس نوجوان نے کچھ دن تو صبر کیا لیکن پھر گناہ کر بیٹھا۔
اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی نازل فرمائی "اسے کہہ دو میں اس سے ناراض ہوں"۔۔موسی علیہ السلام نے پیغام پہنچا دیا
وہ بندہ صحرا کی طرف نکل گیا اور کہنے لگا
" الہی ! آپ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف کیسا پیغام بھیجا ہے؟ کیا آپ کے مغفرت کے خزانے ختم ہو گئے؟میرے مولا! کون سا میرا گناہ تیری رحمت سے بڑا ہے جو معاف ہونے کے قابل نہیں۔۔۔آپ نے کہا! تیری مغفرت نہیں کروں گا ۔اللہ کیسے میری مغفرت نہیں کریں گے کہ اللہ تیری صفات میں سے ہیں آپ بڑے کریم ہیں۔۔اے اللہ! آپ اپنے بندے کو اپنی رحمت سے مایوس کریں گے تو وہ کون سے دروزے پر جائیں گے۔۔اے اللہ! اگر آپ انھیں دھکے دیں گے وہاں کہاں کا قصد کریں۔۔اللہ! اگر آپ کی رحمت ختم ہو گئی ہے تو اے اللہ مجھے عذاب دے دیجیے ۔اے اللہ اپنے باقی سارےبندوں کے گناہ بھی میرے سر ڈال دے۔۔اے اللہ میں سب کی طرف سے فدیہ بن جاوں گا۔مجھ کو عذاب دے دے باقی سب کو معاف کر دے۔"
اللہ پاک نے موسی علیہ السلام کو وحی کی
"اس بندے کو کہہ دیجیے اگر تیرے گناہ آسمان اور زمین کے فاصلے کو بھر دیتے میں تیری اس دعا کے بعد تیرے سارے گناہ معاف کر دیتا تو نے میرے عفو اور میری رحمت کو سمجھ لیا۔"