Saturday, 7 March 2015

ایک بزرگ - حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ

تیسرا واقعہ امت مسلمہ کے ابتدائی دور کے ایک بزرگ کا ہے جن کا نام ہے حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ ۔ جو کہ بہت نامور محدث اور مشہور اولیائے کرام میں سے ہیں۔ یہ پہلے زبردست ڈاکو تھے ۔ ایک مرتبہ ڈاکہ ڈالنے کی غرض سے کسی مکان کی دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ اتفاقاً اس وقت مالک مکان تلاوت قرآن مجید میں مشغول تھا ۔ اس نے یہ آیت پڑھی:
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ 
ترجمہ: جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ، کیا ان کے لئے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لئے اور جو حق اترا ہے ، اس کے لئے پسیج جائیں؟
جونہی یہ آیت ان کی سماعت سے ٹکرائی توخشیت الٰہی سے تھر تھر کانپنے لگے اور بے اختیار منہ سے نکلا: آگیا ۔ میرے رب ! اب اس کا وقت آ گیا۔  چنانچہ روتے ہوئے دیوار سے اتر پڑے اور ایک سنسان کھنڈر نما مکان میں جا بیٹھے ۔ اور مسلسل روتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پھر آپ نے سچی توبہ کی اور توبہ کی پختگی کی خاطر ارادہ کیا کہ اب ساری زندگی بیت اللہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزاروں گا۔ وہاں علم حدیث پڑھنا شروع کیا ، یہاں تک کہ اپنے وقت کے بلند پایہ محدث بنے ۔
گناہگاروں کی توبہ کے ایسے بے شمار واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے ۔ ماضی قریب میں دیکھا جائے تو مشہور پاکستانی کرکٹرز جو کہ گلیمر کی دنیا میں ڈوبے ہوئے تھے ، ان کے رجوع الی اللہ کے واقعات بھی نمایاں نظر آتے ہیں۔ ایک اہم ترین واقعہ مشہور گلوکار جنید جمشید کا ہے جس نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود گانا بجانا چھوڑ کر اللہ سے تعلق جوڑ لیا ۔ آج اللہ نے اسے دوسروں کی ہدایت کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
یہ تمام واقعات ذکر کرنے کا سبب یہ ہے کہ آج ایک اور بھٹکی ہوئی لڑکی اپنے  کئے پر نادم و تائب ہو کر راہ ہدایت کی جانب لوٹ رہی ہے تو اسے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ یقیناً اس سے ماضی میں کچھ ایسے کام ہوئے ہیں جو صرف اسی کے لئے نہیں بلکہ ملک و ملت کے لئے بھی رسوائی و شرمندگی کا باعث بنے لیکن آج جبکہ وہ توبہ کر رہی ہے تو اس کی تضحیک چہ معنی دارد۔ میڈیا بھی عجیب ہے کہ جب وہ تاریک راہوں میں بھٹک رہی تھی تو بھی اس پر لعن طعن کی جا رہی تھی اور اب جبکہ وہ روشنیوں کی سمت چل پڑی ہے تو “نو سو چوہے کھا کے بلی حج کو چلی “ ایسے محاورے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ وہ ان دنوں مالک ارض و سماوات سے اپنا رشتہ استوار بلکہ مستحکم کرنے کی غرض سے اس کے در کی چوکھٹ پر جا بیٹھی ہے ۔ کیا خبر اس کی توبہ اسے کون سی ارفع منازل طے کرا دے ۔ کون جانے کہ وہ رابعہ بصری کے برابر جا کھڑی ہو! اللہ کی اللہ ہی جانے ۔ کہیں نوح و لوط علیہم السلام جیسے انبیاء کی بیویاں جہنم کا ایندھن بن رہی ہیں  تو کہیں فرعون جیسے دشمن دین کی بیوی آسیہ اسلام قبول کر کے جنت میں ختم المرسلین ﷺ کی زوجیت کا شرف حاصل کر رہی ہیں۔ کہیں نبی ﷺ کا سردار چچا ابو لہب جہنم کے پست ترین درجات میں گر رہا ہے تو کہیں بلال رضی اللہ عنہ جیسا غلام ابن غلام حضور ﷺ کی سواری کی لگام پکڑے جنت میں داخل ہو رہا ہے ۔  قرآن نے کلیہ بتا دیا ہے  کہ
إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ 
اللہ کے نزدیک تم میں عزت والا وہ ہے جو زیادہ ڈرنے والا ہے۔
مذاق اڑانے والوں کو اس حدیث مبارکہ کا بھی مطالعہ کر لینا چاہئے:
إِنَّ الْعَبْدَ لَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ
بندہ دوزخیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ، (اسی طرح دوسرا) بندہ جنتیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے ،
بلاشبہ اعمال کا دارو مدار خاتمہ پر ہے ۔
 ایسے میں دعا کے سوا اور کیا کیا جا سکتا ہے؟ سو آئیے دعا کریں! اس کے لئے بھی اور اپنے لئے بھی۔کہ اللہ اسے بھی معاف فرمائے اور ہمیں بھی ۔ اللہ اسے بھی ہدایت پر استقامت عطا فرمائے اور ہمیں بھی ۔ اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ، اپنی رضا پر فرمائے۔ آمین۔

No comments:

Post a Comment